ہوناور:29/اگست (ایس اؤنیوز)دنیا بدل جائے ، گلی محلے بھی ترقی پاجائیں لیکن ہوناور کا بس اسٹانڈ بدلنے کے کچھ آثار نظر نہیں آرہے ہیں، دیکھئے جناب ! دنیا ہزار بدلے ، ہم نہیں بدلیں گے ،اپنی خستہ اور بوسیدہ حالت کو لئے ہوئے ہوناور کا بس اسٹانڈ آثار قدیمہ کی تاریخی عمارتوں کی قطار میں شمار ہونے کے لئے تیار کھڑا ہے۔
ہوناور بس اسٹانڈ کی خستہ حالت کو لے کر میڈیا میں کئی مرتبہ تنقیدی رپورٹیں شائع کرتے ہوئے جو گ کا آبشار، رام تیرتھ وغیرہ موجود ہونے کی بات لکھی گئی تو چار دن کے اندرہی بس اسٹانڈ کی چھت سمینٹ شیٹوں کو نکال کر ٹاٹا شیٹ سے بدلی گئی، مگر اس کے باوجود بھی بارش کے پانی کا ٹپکنا بند نہیں ہوا۔ جس کے نتیجے میں پورا بس اسٹانڈ گندہ ہوگیا ہے۔ اسی حالت میں عوام بیٹھنے پر مجبور ہیں۔ ایک مرتبہ بس اسٹانڈ کا نظارہ کرنے والے عوام کہہ رہے ہیں کہ معمولی چھت کے بدلاؤ سے ایسی بری حالت ہورہی ہے، اگر محکمہ کے انجنئیر کسی ڈیم کی تعمیر کرتے تو کیا درگت ہوتی ۔ چھت سے پانی بہنے سے لوہے کی سلاخیں زنگ آلو د ہوئی ہیں ، جہاں تہاں پودے اُگ آئے ہیں، دیہی علاقوں کو جانے والی بسیں اسی گندے پانی میں کھڑی رہتی ہیں، بسوں کے پاس میں ہی کچرے کا ڈھیر ہوتاہے، مسافروں کو بس میں بیٹھنا ہے تو ناک بند کرنا لازمی ہے۔ مردوں کے پیشاب خانے پہلے سے ہی خراب حالت میں ہیں، نہ وہاں پائپ ہے نہ کوئی انتظام۔ چلنے پھرنے والے مسافر چاہیں یا نہ چاہیں بدبو کو سونگھنا مجبوری ہے، بس اسٹانڈ کے سامنے والے نالے میں کیچڑ بھراپڑاہے، جس کی وجہ سے پاس پڑوس کے دوکانوں میں گندہ پانی گھس جاتاہے، کمپاؤنڈ کی تعمیر کے لئے دیوارتوڑی گئی تھی وہ یوں ہی باقی ہے۔ شام ہونے پر بھی لائٹ کی روشنی کہیں نظر نہیں آتی ،ہاں!بوتلوں کی آوازیں آتی رہتی ہیں ، جس پر شہریوں نے ہنگامہ کرنے کے بعد بھی کوئی فائدہ نہیں ہونے کی بات کہی جارہی ہے۔
رکن اسمبلی شارداشٹی نے کئی مرتبہ بس اسٹانڈ کادورہ کرتے ہوئے افسران کوتاکید کی وہ صاف صفائی اور نالے سے کیچڑ نکالنے کے لئے اقدام کریں۔ رکن اسمبلی منکال وئیدیا نے میٹنگوں میں افسران سے سوالات بھی کئے ، ضلع نگراں کاروزیر آر وی دیش پانڈے محکمہ ٹرافک کے ڈی سی کولیٹر بھی لکھا، کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی، اب راست وزیر رام لنگا ریڈی کو خط لکھ کر دیکھنا ہوگا کہ کام ہوگا کہ نہیں۔